وادیِ تیہ میں بنی اسرائیل کے چالیس برس اور خدائی انعامات کی بارش*

Islamic Content
0


 


وادیِ تیہ میں بنی اسرائیل کے چالیس برس اور خدائی انعامات کی بار

وادیِ تیہ کی حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملکِ شام تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت میں وہ مصر آئے تھے اور یہیں رہ پڑے۔ بعد میں ملکِ شام میں عمالقہ نامی قوم کا تسلط ہو گیا۔

فرعون جب غرق ہو گیا اور یہ لوگ مطمئن ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کا ان کو حکم ہوا کہ عمالقہ سے جہاد کرو اور اپنی اصلی جگہ کو اُن کے قبضہ سے چھڑاؤ۔

بنی اسرائیل اس ارادے سے مصر سے چلے اور ان کی حدود میں پہنچ کر جب عمالقہ کے زور و قوت کا حال معلوم ہوا تو ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے صاف انکار کر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے اس انکار کی یہ سزا دی کہ چالیس برس تک ایک میدان میں سرگرداں و پریشان پھرتے رہے، اور گھر پہنچنا بھی نصیب نہ ہوا۔

یہ میدان پانچ چھ کوس (تقریباً دس میل) کے رقبے پر مشتمل تھا۔ روایت ہے کہ یہ لوگ اپنے وطن مصر جانے کے لیے دن بھر سفر کرتے اور رات کو کسی منزل پر اترتے، مگر صبح کو دیکھتے کہ جہاں سے چلے تھے وہیں موجود ہیں۔

اسی طرح چالیس سال تک سرگرداں و پریشان اس میدان میں پھرتے رہے، اسی لیے اس میدان کو وادیِ تیہ کہا جاتا ہے، کیونکہ "تیہ" کے معنی ہیں سرگردانی اور پریشانی۔

یہ وادی ایک کھلا میدان تھا، نہ اس میں کوئی عمارت تھی اور نہ درخت، جس کے نیچے دھوپ، سردی یا گرمی سے بچا جا سکے۔ نہ یہاں کھانے پینے کا سامان تھا اور نہ پہننے کے لیے لباس۔


مگر اللہ تعالیٰ نے معجزہ کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اسی میدان میں ان کی تمام ضروریات کا انتظام فرما دیا۔

بنی اسرائیل نے دھوپ کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک سفید، باریک بادل کا سایہ کر دیا۔



اور جب بھوک لگی تو منّ و سلویٰ نازل فرما دیا، یعنی درختوں پر ترنجبین (ایک میٹھی چیز) بکثرت پیدا کر دی، جسے "منّ" کہا گیا، اور بٹیر (پرندے) ان کے پاس آ جاتے، جو ان سے بھاگتے نہیں تھے۔ وہ انہیں پکڑ لیتے اور ذبح کر کے کھاتے، اسے "سلویٰ" کہا گیا۔


یہ لوگ ان دونوں لطیف چیزوں سے پیٹ بھر لیتے۔ چونکہ ترنجبین کی کثرت معمول سے زیادہ تھی اور بٹیروں کا نہ بھاگنا بھی خلافِ معمول تھا، اس لیے ان دونوں کو خزانۂ غیب سے قرار دیا گیا۔


جب انہیں پانی کی ضرورت پیش آتی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک پتھر پر لاٹھی مارنے کا حکم دیا جاتا، جس سے چشمے پھوٹ پڑتے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں مذکور ہے۔


انہوں نے رات کی تاریکی کا شکوہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے غیب سے ایک نورانی روشنی عمودی شکل میں ان کے درمیان قائم فرما دی۔


جب کپڑے میلے ہونے لگے اور پھٹنے لگے اور لباس کی ضرورت پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے بطورِ اعجاز یہ صورت کر دی کہ ان کے کپڑے نہ میلے ہوتے تھے اور نہ پھٹتے تھے، اور بچوں کے کپڑے ان کے جسم کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہتے تھے۔


حضرت مولانا مفتی عاصم عبد اللہ صاحب 

  • Newer

    وادیِ تیہ میں بنی اسرائیل کے چالیس برس اور خدائی انعامات کی بارش*

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)